مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #945

مسلسل نمبر: 945 · کتاب 5، حدیث 143

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَالَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَىْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي كَانَ لأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ - قَالَ لاَ أَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا - خَيْرٌ لَهُ مِنْ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے، جو نمازی کے آگے سے گزرے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے، تو اس کے لیے چالیس … تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

It was narrated from Busr bin Sa’eed that Zaid bin Khalid sent word to Abu Juhaim Al-Ansari asking him:“What did you hear from the Prophet (ﷺ) about a man when he is performing prayer?” He said: “I heard the Prophet (ﷺ) saying: ‘If anyone of you knew (how great is the sin involved) when he passed in front of his brother who is performing prayer, then waiting for forty’,” (one of the narrators) said: “I do not know if he meant forty years, forty months, or forty days, ‘would be better for him than that.”

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ يَسْأَلُهُ مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَىِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔