مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #832

مسلسل نمبر: 832 · کتاب 5، حدیث 30

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ ‏.‏ قَالَ جُبَيْرٌ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ ‏{أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ }‏ كَادَ قَلْبِي يَطِيرُ ‏.‏

اردو ترجمہ

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے«فليأت مستمعهم بسلطان مبين»، یعنی: کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ ( اگر ایسا ہے ) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے ، ( سورۃ الطور: ۳۵ -۳۸ ) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

It was narrated from Muhammad bin Jubair bin Mut’im that his father said:“I heard the Prophet (ﷺ) reciting At-Tur (52) in the Maghrib.” In a different narration, Jubair said: “And when I heard him recite: ‘Were they created by nothing? Or were they themselves the creators?’ up to: ‘Then let their listener produce some manifest proof’,[52:35-38] it was as if my heart were about to take flight.”

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔