مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #4061

مسلسل نمبر: 4061 · کتاب 36، حدیث 136

100%
زیرِ جائزہ
حسنHasan (Al-Albani)

‏ يَكُونُ فِي أُمَّتِي - أَوْ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ - مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ ‏.‏

اردو ترجمہ

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں بدعت نکالی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہو تو اسے میرا سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ( یا اس امت میں ) مسخ ( صورتوں کی تبدیلی ) ، اور زمین کا دھنسنا آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا ، اور یہ قدریہ میں ہو گا جو تقدیر کے منکر ہیں ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

It was narrated from Nafi’ that a man came to Ibn ‘Umar and said:“So-and-so sends his Salam to you.” He said: “I have heard that he has introduced innovations (into Islam). If he has indeed introduced innovations, then do not convey my Salam to him, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘There will be among my nation – or among this nation – transformations, the earth collapsing, and Qadhf.’ That was concerning Ahlul-Qadar.”

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ إِنَّ فُلاَنًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلاَمَ قَالَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلاَ تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلاَمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔