مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #3707

مسلسل نمبر: 3707 · کتاب 33، حدیث 51

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفDaif (Al-Albani)

‏ يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ تَسْبِيحَةً وَتَكْبِيرَةً وَتَحْمِيدَةً وَيَتَنَحْنَحُ وَيُؤْذِنُ أَهْلَ الْبَيْتِ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سلام تو ہمیں معلوم ہے، لیکن «استئذان» کیا ہے؟ ( یعنی ہم اجازت کیسے طلب کریں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «استئذان» یہ ہے کہ آدمی تسبیح، تکبیر اور تحمید ( یعنی «سبحان الله، الله أكبر، الحمد لله» کہہ کر یا کھنکار کر ) سے گھر والوں کو خبردار کرے ۔

انگریزی ترجمہ

We said: 'O Messenger of Allah(ﷺ), (we know) this (greeting of) Salam, but what does seeking permission to enter mean?' He said: 'It means a man saying SubhanAllah, and Allahu Akbar and Al Hamdulillah, and clearing his throat, announcing his arrival to the people in the house

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلاَمُ فَمَا الاِسْتِئْنَاسُ قَالَ ‏

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)