مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #3340

مسلسل نمبر: 3340 · کتاب 29، حدیث 90

100%
زیرِ جائزہ
موضوعMawdu (Al-Albani)

‏ وَمَا الْفَالُوذَجُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَخْلِطُونَ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ جَمِيعًا ‏.‏ فَشَهَقَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِذَلِكَ شَهْقَةً ‏.‏

اردو ترجمہ

سب سے پہلے ہم نے «فالوذج» کا نام اس وقت سنا جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا: تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی، اور اس پر دنیا کے مال و متاع کا ایسا فیضان ہو گا کہ وہ لوگ «فالوذج» کھائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: «فالوذج» کیا ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکیاں بندھ گئیں۔

انگریزی ترجمہ

It was narrated that Ibn ‘Abbas said:“The first we heard of Faludhaj* was when Jibril (as) came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘The world will be opened for your nation and they will conquer the world, until they eat Faludhaj.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘What is Faludhaj?’ He said: ‘They mix ghee and honey together.’ At that, the Prophet (ﷺ) sobbed.”

سند دیکھیں (1 راوی)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ السُّلَمِيُّ أَبُو الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَوَّلُ مَا سَمِعْنَا بِالْفَالُوذَجِ، أَنَّ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ تُفْتَحُ عَلَيْهِمُ الأَرْضُ فَيُفَاضُ عَلَيْهِمْ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الْفَالُوذَجَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏

عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

  1. 1
    صحابی (راویِ اول)