مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #3144

مسلسل نمبر: 3144 · کتاب 26، حدیث 25

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ حَدِّثْنِي بِمَا، كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الأَضَاحِيِّ ‏.‏ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ ‏ "‏ أَرْبَعٌ لاَ تُجْزِئُ فِي الأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لاَ تُنْقِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الأُذُنِ ‏.‏ قَالَ فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ وَلاَ تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ ‏.‏

اردو ترجمہ

عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: مجھ سے قربانی کے ان جانوروں کو بیان کیجئیے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا، یا منع کیا ہے؟ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے ( جب کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے ) فرمایا: چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں: ایک کانا جس کا کانا پن واضح ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری عیاں اور ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، چوتھا ایسا لاغر اور دبلا پتلا جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۱؎۔ عبید نے کہا: میں اس جانور کو بھی مکروہ جانتا ہوں جس کے کان میں نقص ہو تو براء رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے تم ناپسند کرو اسے چھوڑ دو، لیکن دوسروں پر اسے حرام نہ کرو ۔

انگریزی ترجمہ

Sulaiman bin ‘Abdur-Rahman said:“I heard ‘Ubaid bin Fairuz say: ‘I said to Bara’ bin ‘Azib: “Tell us of the sacrificial animals that the Messenger of Allah (ﷺ) disliked or forbade.” He said: “Allah’s Messenger (ﷺ) said like this with his hand. And my hand is shorter than his hand:* ‘There are four that will not be accepted as sacrifices: The one-eyed animal that is obviously blind in one eye; the sick animal that is obviously sick; the lame animal with an obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones.’” He said:** “And I dislike that the animal should have some fault in its ears.” He said: “What you dislike, forget about it and do not make it forbidden to anyone.”

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔