مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #1818

مسلسل نمبر: 1818 · کتاب 8، حدیث 36

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ أَوْ سُقِيَ بَعْلاً الْعُشْرَ وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ الْبَعْلُ وَالْعَثَرِيُّ وَالْعَذْىُ هُوَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ ‏.‏ وَالْعَثَرِيُّ مَا يُزْرَعُ لِلسَّحَابِ وَلِلْمَطَرِ خَاصَّةً لَيْسَ يُصِيبُهُ إِلاَّ مَاءُ الْمَطَرِ ‏.‏ وَالْبَعْلُ مَا كَانَ مِنَ الْكُرُومِ قَدْ ذَهَبَتْ عُرُوقُهُ فِي الأَرْضِ إِلَى الْمَاءِ فَلاَ يَحْتَاجُ إِلَى السَّقْىِ الْخَمْسَ سِنِينَ أَوِ السِّتَّ يَحْتَمِلُ تَرْكَ السَّقْىِ فَهَذَا الْبَعْلُ ‏.‏ وَالسَّيْلُ مَاءُ الْوَادِي إِذَا سَالَ ‏.‏ وَالْغَيْلُ سَيْلٌ دُونَ سَيْلٍ ‏.‏

اردو ترجمہ

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ جو پیداوار بارش کے پانی سے ہو اور جو زمین کی تری سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو چرخی کے پانی سے ہو اس میں بیسواں حصہ لوں۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: «بعل»، «عثری» اور «عذی» وہ زراعت ( کھیتی ) ہے جو بارش کے پانی سے سیراب کی جائے، اور «عثری» اس زراعت کو کہتے ہیں: جو خاص بارش کے پانی سے ہی بوئی جائے اور دوسرا پانی اسے نہ پہنچے، اور «بعل» وہ انگور ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر پانی تک چلی گئی ہوں اور اوپر سے پانچ چھ سال تک پانی دینے کی حاجت نہ ہو، بغیر سینچائی کے کام چل جائے، اور «سیل» کہتے ہیں وادی کے بہتے پانی کو، اور «غیل» کہتے ہیں چھوٹے «سیل» کو ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

It was narrated that:Mu'adh bin Jabal said: “The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to Yemen and commanded me to take one-tenth of that which was irrigated by deep roots, and to take one half of one-tenth of that which was irrigated by means of buckets.”

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔