مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #1811

مسلسل نمبر: 1811 · کتاب 8، حدیث 29

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ، مَوْلَى عِمْرَانَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ، اسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا رَجَعَ قِيلَ لَهُ أَيْنَ الْمَالُ قَالَ وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتَنِي أَخَذْنَاهُ مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَوَضَعْنَاهُ حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهُ ‏.‏

اردو ترجمہ

عمران رضی اللہ عنہ کے غلام عطا بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما زکاۃ پہ عامل بنائے گئے، جب لوٹ کر آئے تو ان سے پوچھا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے زکاۃ ان لوگوں سے لی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لیا کرتے تھے، اور پھر اس کو ان مقامات میں خرچ ڈالا جہاں ہم خرچ کیا کرتے تھے ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

Ibrahim bin Ata, the freed slave of Imran bin Husain, said:“My father told me that 'Imran bin Hussain was appointed to collect the Sadaqah. When he came back, it was said to him: 'Where is the wealth?' He said: 'Was it for wealth that you sent me? We took it from where we used to take it at the time of the Messenger of Allah, and we distributed it where we used to distribute it.' ”

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔