مرکزی مواد پر جائیں
سنن ابن ماجہ کی طرف واپس

سنن ابن ماجہ #1801

مسلسل نمبر: 1801 · کتاب 8، حدیث 19

100%
زیرِ جائزہ
حسنHasan (Al-Albani)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ جَاءَنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ‏.‏ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا فَأَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَخَذَهَا وَقَالَ أَىُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي وَأَىُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي إِذَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ إِبِلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ‏.‏

اردو ترجمہ

سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل صدقہ ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور اس کے میثاق ( عہد نامہ ) میں پڑھا کہ الگ الگ مالوں کو یکجا نہ کیا جائے، اور نہ مشترک مال کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ کیا جائے، ایک شخص ان کے پاس ایک بھاری اور موٹی سی اونٹنی لے کر آیا، عامل زکاۃ نے اس کو لینے سے انکار کر دیا، آخر وہ دوسری اونٹنی اس سے کم درجہ کی لایا، تو عامل نے اس کو لے لیا، اور کہا کہ کون سی زمین مجھے جگہ دے گی، اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا؟ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسلمان کا بہترین مال لے کے جاؤں گا ۱؎۔

انگریزی ترجمہ

It was narrated that:Suwaid bin Ghafalah said: ”The Zakah collector of the Prophet came to us, and I took him by the hand and read in his order: 'Do not gather separate herds and do not separate herd for fear of Sadaqah'. A man brought him a huge, fat she-camel, but he refused to accept it. So he brought him another of lower quality and he accepted it. He said: 'What land would shelter me, if I came to the Messenger of Allah having taken the nest of a Muslim man's camels?' ”

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔