مرکزی مواد پر جائیں
ہوم پر واپس →
مضمون
مضمون

توبہ و استغفار

از سہیل احمدشائع: 2 نومبر، 2026تازہ ترین: 2 نومبر، 2026عوامیکیفیت: شائع شدہ

ہم اور آپ کمزور ہیں اپنی اپنی طاقت کے مطابق کوشش کرتے ہیں کہ بہتر سے بہتر طریقے سے اللہ کی رضا حاصل کر سکیں اس یقین کے ساتھ کہ اللہ رَب العزت جو دِلوں کے بھید خوب جانتاہے اور اسے سب علم ہے کہ ہم اور آپ کتنی مخلصی سے کوشش کررہے ہیں۔

لیکن یقینا اس میں کمی اور کوتاہی رہ جاتی ہے اور غلطیاں بھی سرزد ہوجایا کرتی ہیں لہٰذااللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کو اپنا معمول بنانا نہایت ضروری ہے، تاکہ وہ رَب ہم و آپ پر مہر بانی فرمائے،غلطیوں سے درگزر کرکے اپنی رضامندی عطاء فرمائے ۔

"جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے، اس کے بعد اگر وہ اُسے چھوڑدے اور معافی مانگ لے تو وہ دھبہ ختم کردیا جاتاہے ،لیکن اگر وہ گناہ کرتا رہا تو وہ دھبہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ اِس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے اِسی حالت کا نا م رَین(زنگ چڑھا ہوا) ہے جس کا ذکراللہ تعا لیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔"

(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ترمذی (زادِراہ ۲۳۴))

ماخوذ از کتاب تزکیۂ نفس، از ملک سہیل احمد