مرکزی مواد پر جائیں
ہوم پر واپس →
مضمون
مضمون

جہدِ مسلسل

از سہیل احمدشائع: 2 نومبر، 2026تازہ ترین: 2 نومبر، 2026عوامیکیفیت: شائع شدہ

کسی بھی مقصد کو پانے کے لئے جدوجہد ِ مسلسل ہونی چاہیے،تب ہی مقصد کا حصول ممکن ہو پاتاہے۔ اس سلسلے میں ایک بادشاہ اپنی کوششوں میں ناکام ہو ا بیٹھا تھا کہ اس نے ایک چیونٹی کو دیوار پر کئی بار چڑھتے اور گرتے دیکھا اور آخر کار اُس نے دیکھا کہ چونٹی کی مسلسل جدوجہد نے اُسے دیوار پر چڑھا دیا تو ایک بار پھر وہ حوصلہ لے کر اٹھا اور مسلسل جدوجہد سے کامیابی حاصل کرلی۔

اب اِس بات کوایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں کہ آپ کا ایک دوست ہے جس میں آپ کبھی وفاداری پاتے ہیں اور کبھی بے زاری ،اس کے مقابلے میں ایک دوست ہے جسے آپ نے ہمیشہ وفا شعار پایا ہے ۔ آپ بتائیں آپ کِسے حقیقی دوست سمجھیں گے؟

اب اپنی پوزیشن دیکھیں کہ کیا آپ اپنا تما م وقت اللہ کے احکامات کے مطابق گزار رہے ہیں یا پھر جب آپ اجتماعیت سے علیٰحدہ ہوتے ہیں تو آپ سے اللہ تعالیٰ نافرمانیاں ہونا شروع ہو جاتی ہیں ،اگر ایسا ہے تو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کی یہ واحد صورت ہے کہ آپ اس دو رُخے پَن سے جلد سے جلد چھٹکارا حاصل کریں۔

دوسر ی با ت یہ ہے کہ جو کام بھی کریں تو پہلے خوب سوچ سمجھ لیں اور جب کرنے کا ارادہ کرلیں تو ادھورا نہ چھوڑیں اُس کو مکمل کر کے ہی دم لیں اس راہ میں آنے والی مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کریں اور اگر آپ حق پر ہیں تو کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے متاثر نہ ہوں۔نو جوانی اور طالبِ علمی کے زمانے ہی میں اگر آپ نے حق کی راہ کو پا لیا ہے تو شادی کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد بھی وہ حق ہی رہتا ہے۔اس لئے اپنی خانگی زندگی اور روزگار کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنا حقیقی مقصد ِ زندگی کو بھی اپنے ذہن و عمل میں رکھیں۔

جہدِ مسلسل جس طرح ہر چھوٹے بڑے کام کو مکمل کرنے کے لئے ضروری ہے بالکل اسی طرح مجموعی زندگی گزارنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ ورنہ جہدِ مسلسل کے بغیر تو چھوٹے چھوٹے منصوبے مکمل نہیں ہوتے کجا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں۔پیارے نبی ﷺ نے اس بات کو بہت خوبصورتی سے صرف ایک جملے میں بیان کیاہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا"""":"احسان کی تکمیل اس کو شروع کرنے سے بہتر ہے۔"

(بروایت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،المعجم الصغیر للطبرانی،(انتخاب ِ حدیث ۱۶۸))

نماز کی ادائیگی میں جو ایک بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے وہ جہد ِمسلسل ہے۔ جسکو ہر حالت میں روزانہ پانچ مرتبہ کی پابندی کے ساتھ ادا کرنا ہوتاہے۔یعنی زندگی کی روٹین جیسی بھی گزر رہی ہو آپ نے اپنے کاموں کو اس طرح ترتیب دینا ہے کہ آ پ کا مقصدِ زندگی اُس سے متاثر نہ ہو۔

رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا"""":"دین کے کاموں میں سے پسندیدہ کام وہ ہے جس پر کام کرنے والا پابندی کرے اور مستقل مزاجی دکھائے۔"

(بروایت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،بخاری ومسلم،(انتخاب ِ حدیث ۱۶۵))

ماخوذ از کتاب تزکیۂ نفس، از ملک سہیل احمد