مرکزی مواد پر جائیں
ہوم پر واپس →
مضمون
مضمون

دعوتِ دین

از سہیل احمدشائع: 2 نومبر، 2026تازہ ترین: 2 نومبر، 2026عوامیکیفیت: شائع شدہ

آپ اگر اللہ کی وحدانیت کی گواہی دے رہے ہوں تو آپ کی عملی گواہی بھی یہی ہو ،تاکہ آپ کی زندگی کو دیکھ کر لوگ سمجھ لیں کہ یہ اللہ کا بندہ ہے۔آپ جب یہ کہتے ہوں کہ محمد الرسول ﷺ سے محبت رکھنا ایمان کا تقاضہ ہے تو معاشرہ آپکی عملی زندگی میں اس محبت کی حرارت محسوس کرے۔آپ کا کردار اس بات کی طرف اشارہ کرتاہو کہ آپ موت کے بعد زندگی کا شعور رکھنے والے فرد ہیں۔قول وفعل میں عدم مطابقت اللہ تعالیٰ کو ہر گز پسند نہیں۔

اب اس کردار کے حامل ہوجانے کے بعد آ پ کی شخصیت میں جو نکھار آئے گا وہ دعوتِ دین کی ذمہ داری کی ادائیگی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔والدین آپکی دعوت سے متاثر ہوں گے۔اساتذہ آپ کو رشک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔اس کردار کے ساتھ جب آپ دعوتِ دین کا کام کریں گے تو آپ کی دعوت لوگوں کے دِلوں میں اُترتی چلی جائے گی۔اور یہ حقیقت بھی ہے کہ دین کی ترویج اب تک جو ہوئی ہے اس میں الفاظ سے زیادہ کردار کا اثر پوشیدہ رہاہے۔آپ بھی یقینا کسی کے کردار سے متاثر ہوئے ہونگے۔

آپ ﷺ نے فرمایا": اس امت کے آخر میں ایک ایسی جماعت ہوگی جنھیں امت کے پہلے مسلمانوں جیسا اجر ملے گا۔وہ بھلائیوں کا حکم دیں گے اور برائیوں سے روکیں گے اور فتنے فساد والوں سے جنگ کریں گے۔

(بروایت عبدالرحمن بن علا الحضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، بیہقی)

دعوت ِ دین کے داعی کی حیثیت سے آپکو اپنی دعوت کا نمونہ ہونا چاہیے آپکا زندگی گزارنے کا طریقہ ایسا ہو جو لو گوں کو حق سے متاثر کر سکے اور وہ جب ہی متاثر کر سکے گا جب آپ اپنی زندگی رسول اللہ ﷺ کے اعلیٰ طریقۂ زندگی کی طرح گزارنے کی کوشش کریں گے۔قرآن مجید میں ارشادِباری تعالیٰ ہے کہ:

"اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم کیوں کہتے ہو وہ بات جو کرتے نہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے یہ حرکت کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔"

(سورہ الصف ۲ تا ۴)

"تم دوسروں کو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو ، مگراپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ "

(سورہ البقرہ رکوع ۵)

اپنی زبان اور عمل سے گواہی دینا آپکی ذمہ داری ہے کیو نکہ اللہ نے آپ پر رحمت کی ہے اور آپ نے اپنے پروردگارکو پہچان لیا ہے اسکے رسول ﷺ کے پیغام کو سمجھ لیا ہے تو دوسروں کو بتانا آپکی ذمہ داری ہے جس سے روگردانی کی سزا سخت ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ:

"جو لوگ جہاد ( دین کے لئے محنت اور جاں فشانی اور مالی اور جانی قربانی ) نہ کریں گے تو اللہ ایسے لوگوں پر عذاب مسلط کرے گا۔"

(بروایت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ،طبرانی(زادِراہ ۲۰۵))

ماخوذ از کتاب تزکیۂ نفس، از ملک سہیل احمد