مرکزی مواد پر جائیں
ہوم پر واپس →
مضمون
مضمون

صحبت

از سہیل احمدشائع: 2 نومبر، 2026تازہ ترین: 2 نومبر، 2026عوامیکیفیت: شائع شدہ

آپ کے لئے یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے کہ آپ کو کن لوگوں سے اپنا تعلق جوڑنا اور رکھنا ہے! د وست ہمیشہ سوچ سمجھ کر بنائیں۔صحبت اگر اچھی ہو گی تو آپ کو بہت تقویت دے گی اور دوسری صورت میں تمام زندگی تباہ کرکے رکھ دے گی۔صحبت یا سوسائٹی آپ کی سیرت کی تعمیر میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے جو تمام عمر کے لئے آپ کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچھے دوست کون ہیں ؟ کیا وہ جو ہر وقت آپ کی خوشامد کرتے رہیں یاوہ جو ہمیشہ ہی کیڑے نکالتے رہیں ؟ اچھی محافل کیسی ہوتی ہیں؟

کسی نے حضور ﷺ سے پوچھا ہم نشین کیسے ہوں، کن لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا": "جن کو دیکھ کر خدا یاد آئے ،جن کی گفتگو سے تمہاری دینی معلومات میں اضافہ ہو، جن کا عمل تمہیں آخرت یاد دلائے۔"

(بروایت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ترغیب )

یقینا اچھے دوست وہ ہیں جو آپ کی اچھی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کریں اچھے کاموں کا نہ صرف مشورہ دیں بلکہ اس میں آپ کے ہم جولی بھی ہوں ۔ دکھ درد میں آپ کا سہارابنیں ،غلط کاموں کو غلط جاننے اور کہنے والے ہوں جن کی سوچ میں کامیابی اور ناکامی کا معیار وہی ہو جو اللہ تعالیٰ اوراسکے رسول محمد ﷺ کے نزدیک حق ہے ۔اسی طرح کا معاملہ آپ کا بھی ہو تب وہ صورت حال پیدا ہوتی ہے جس کا نقشہ قر آن حکیم نے کھینچا ہے۔ اورجس کو ناکامی سے بچنے کا ذریعہ بتایاگیاہے۔

"اور وہ ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے ہیں ۔"

(سورۃ العصرآیت:۳)

میں نے نبی ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تم کسی مومن ہی کو اپنا دوست بناؤ۔ اور متقی آدمی کے سوا کسی اور کو کھانا نہ کھلاؤ (فاسق و فاجر آدمیوں کو دعوتِ طعام نہ دو)۔

(بروایت ابو سعید،صحیح ابن حبان (زادِراہ ۱۷۱))

اس لئے آغاز سے ہی اپنے لئے بہترین دوست کی تلاش کیجئے۔ اور پھر ان سے تعلقات کو اچھی طرح نبھایں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال مشک عنبراٹھانے والے اور لوہار کی بھٹی دھونکنے والے جیسی ہے۔مشک عنبر والا یا تو تمھیں کچھ دے دے گایا تم اس سے کچھ خرید لو گے یا (کم ازکم)تم اس کے ہاں خوشبو سونگھ لو گے، (لیکن) بھٹی دھونکنے والا تو تمھارے کپڑے جلادے گا یا تم اس کے ہاں دماغ کو سڑادینے والی بدبو پاؤ گے۔"

(حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، متفق علیہ،(انتخابِ حدیث ۲۹۴))

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتاہے۔دوستی قائم کرنے سے پہلے تمہیں دیکھ لینا چاہیے کہ تم دوستی کس سے کررہے ہو۔"

(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مسند احمد (انتخابِ حدیث ۲۹۱))

دوستی کر لینے کے بعد اس کو نبھانے کے لئے آپ باوقار انداز اپنائیں اور اس سلسلے میں چند اہم باتوں کا خیال رکھیں جو ان قیمتی مشوروں میں پوشیدہ ہیں ،ان سے آپ حیرت انگیز اثرات محسوس کریں گے اور دوستی سے بہتر طور سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: " تمہاری محبت جنون کی شکل نہ اختیار کرنے پائے اور تمھاری دشمنی ایذا رسانی کا باعث نہ بننے پائے۔"

میں نے کہا: "وہ کیسے؟ " آپ نے فرمایا: " (وہ یہ ہے کہ)جب تم محبت کرو تو طفلانہ حرکات کرنے لگواور جب کسی سے ناراض ہو تو اس کی جان و مال تک کی تباہی اور بربادی کی آرزو کرو۔"

(بروایت اسلم ،الادب المفرد،(انتخابِ حدیث۲۹۵))

میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا، فرمارہے تھے:"اپنے دوست سے دوستی میں نرمی (میانہ روی) اختیار کرو ،ہو سکتا ہے کہ کسی وقت وہ تمھارا دشمن بن جائے۔ اسی طرح دشمن سے دشمنی کابرتاؤ کرنے میں بھی نرمی (اعتدال کی راہ) اختیار کرو،ہوسکتاہے کہ کسی دن وہ تمھاری دوستی کا دم بھرنے لگے۔"

(بروایت عبید کندی، الادب المفرد ،(انتخابِ حدیث ۲۹۶))

دوستوں اور ساتھیوں سے محبت والفت کا تعلق رکھیں اور ان کے کاموں میں ان کے مددگار رہیں ،ان کے لئے دعابھی کریں اور ان کی خیر خواہی چاہیں۔

رسول اللہ ﷺجب کسی کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور اسے نہ چھوڑتے یہاں تک کہ وہ خود آپ ﷺ کا ہاتھ نہ چھوڑتا۔(رخصت کرتے ہوئے فرماتے):"میں تمہارا دین ، امانت اور خاتمۂ عمل اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔"

(بروایت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ترمذی (انتخابِ حدیث ۲۶۲))

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑے ،نہ اس سے جھوٹ بولے، نہ اس پر ظلم کرے۔اور بے شک تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے، اگر وہ کوئی عیب دیکھے تو اس سے دور کردے۔"

(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ترمذی،(انتخابِ حدیث ۲۷۶))

اس حدیث کی تشریح میں صاحبِ "انتخابِحدیث "جناب عبدالغفار عمر حسن پوریؒ صاحب لکھتے ہیں کہ:۔

۱۔ آئینہ چہرے کے داغ دھبے اتنے ہی بتاتا ہے جتنے کہ فی الواقع پائے جاتے ہیں، نہ ان میں کمی کرتا ہے اور نہ زیادتی۔

۲۔یہ داغ دھبے بھی اسی وقت بتاتا ہے جبکہ چہرہ سامنے ہو ، اگر چہرہ سامنے سے ہٹ جائے تو آئینے کی زبان خاموش ہوجاتی ہے۔

۳۔ آج تک نہیں سنا گیا کہ کسی نے آئینے میں اپنے داغ دھبے دیکھ کر جھنجھلاہٹ اور غصے کا اظہار کیا ہو، بلکہ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ زبان ِ حال سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کو بڑی احتیاط سے محفوظ جگہ رکھ دیا جاتا ہے تاکہ آئندہ ضرورت کے وقت کام آسکے۔

۴۔آئینہ داغ دھبے اس وقت بتلاتاہے جبکہ وہ چہرہ کے بالکل سامنے ہو ، آئینہ اگر سر سے اونچا ہو یا نیچے کی طرف ہو تو وہ اصل مقصد کے لئے مفید نہیں ہو سکتا۔

اب تشبیہہ اور استعارے کا انداز چھوڑکر صاف لفظوں میں یوں کہا جاسکتاہے کہ آئینے کے ساتھ تشبیہہ دے کر رسول اللہ ﷺ نے ہم کو چارہدایات دی ہیں :

۱۔ کسی مسلمان کا عیب بیان کرنا ہو تو اسی قدر بیان کرو جتنا فی الواقع موجود ہے۔

۲۔عیب سامنے بیان کیا جائے نہ کہ پیٹھ پیچھے۔

۳۔جو ہمارا عیب بتلائے یا تنقید کرے اس سے ناراض ہونے کے بجائے اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

۴۔نصیحت اور تنقید کرنے والے کو چاہیے کہ تنقید کرتے ہوئے نہ تو اپنی بڑائی اور بلندی کا اظہارکرے، اورنہ تملق اور چاپلوسی کا رویہ اختیار کیا جائے۔

(از -انتخابِ حدیث)

دعوت ِ دین کے سلسلے میں جو افراد آپس میں مل جل کرجدوجہد کرتے ہیں اُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے آپ کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ:۔

میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ":" قیامت کے دن رحمن کے دائیں جانب کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو نہ نبی ہیں اور نہ شہید ہیں لیکن ان کے چہروں کا نور دیکھنے والوں کی نظر کو خیرہ کرتا ہوگا، ان کے مقام و مرتبے کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء نہایت خوش ہورہے ہوں گے۔"

لوگوں نے پوچھا : "اے اللہ کے رسول ﷺ یہ کون لوگ ہوں گے؟"

آپ ﷺ نے فرمایا: " یہ مختلف قبائل اور مختلف بستیوں کے لوگ ہوں گے جو دنیا میں اسلام لائے اور قرآن سیکھنے اور سیکھانے اور اللہ کی یاد کرنے کے لئے اکٹھا ہوتے تھے۔اس طرح یہ لوگ بہترین پاکیزہ باتیں چنتے تھے۔جس طرح کھجور کھانے والا بہترین اور لذیذ ترین کھجوروں کا انتخاب کرتاہے۔"

دوسری روایت میں ہے۔

"یہ وہ لوگ ہوں گے جواللہ کے لئے آپس میں محبت کرنے والے ہیں، یہ مختلف قبائل کے ہیں، مختلف علاقوں کے ہیں ، خدا کو یاد کرنے کے لئے اکٹھا ہوتے تھے۔"

(بروایت عَمَرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبسہ،طبرانی (زادِراہ ۱۸۹))

ماخوذ از کتاب تزکیۂ نفس، از ملک سہیل احمد