مرکزی مواد پر جائیں
ہوم پر واپس →
مضمون
مضمون

علم

از سہیل احمدشائع: 2 نومبر، 2026تازہ ترین: 2 نومبر، 2026عوامیکیفیت: شائع شدہ

علم آپ کی امتیازی خصوصیت ہے جو آپ کو دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے ۔آپ علم کے ذریعے ہی خود کو پہچانتے ہیں ، اوراپنے مقصدِ تخلیق کو تلاش کرتے ہیں۔اور جب آپ اپنے مقصد ِتخلیق کو سمجھ لیتے ہیں، تو اس کی روشنی میں اپنی زندگی کی تعمیر کرتے ہیں،اپنے کردار کو سنوارتے اور نکھارتے ہیں۔آپ علم کو دو حصوں میں سمجھ سکتے ہیں۔حالانکہ مجموعی طور پر یہ ایک ہی ہیں۔

۱۔الہامی علوم ۲۔عصری علوم

الہامی علوم

اللہ تعالیٰ کو بحیثیت بادشاۂ کائنات پہچان کر اور دنیا میں اپنے مقام کو سمجھ کرآپ جو کام کریں گے وہ یقیناً اس لائق ہو گا کہ اس کی قدر کی جائے اور روزِ جزاء آپ کے کسی کام آسکے۔ اس بنیادی بات کو سمجھنے اور اس کو پختہ کرلینے کے بعدعمل کے لئے دینی علوم ہی بنیاد وہ ہیں ،جو آپ کو زندگی گزارنے کے وہ طریقے بتاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتا ب قرآن مجید میں بیان فرمائے ہیں اور محمدرسول اللہ ﷺ کی رسالت کے ذریعے آپ تک ہدایات بھیجی ہے، جس کے بغیر انسانی شخصیت کی کوئی عمارت قائم نہیں رہ سکے گی ۔

دین کا علم آپ کے لئے نہایت ضروری ہے کہ یہ آپ کو رَبّ کی پہچان عطاء کرتا ہے۔نائب ہونے کی حیثیت سے آپکی ذمہ داریوں سے آپکو آگاہ کرتا ہے۔اللہ کی کتاب قرآن مجید کی تعلیمات آپ کے لئے دستور کا درجہ رکھتی ہیں اور پھر محمدرسول اللہ ﷺ کی زندگی ،جو کہ فطری زندگی کا بہترین نمونہ ہے، آپ کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے محمد رسول اللہ ﷺ نے اُسی فطرت کے مطابق زندگی گزاری ہے۔ اس لئے آپ محمد الرسول ﷺ کی زندگی کامطالعہ ضرور کریں۔تاکہ آپ اُن کے نقشِ قدم پر چل سکیں۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا": "بے شک انسانوں میں کچھ اللہ والے لوگ ہیں۔"

لوگوں نے پو چھا : "اے اللہ کے رسول ﷺ ، اللہ والوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ "

آپ ﷺ نے فرمایا:" قرآن والے اللہ والے ہیں اور مخصوص بندے ہیں۔"

(بروایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابنِ ماجہ(زادِراہ ۲۳۱))

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مسعود فرماتے ہیں: " یہ قر آن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچھایا ہوادسترخوان ہے، توجب تک تمہارے اندر طاقت ہے خدا کے دسترخوان پر آؤ۔بلا شبہ یہ قرآن اللہ کی رسی ہے اور تاریکیوں کو چھاٹنے والی روشنی ہے، فائدہ دینے والی اور شفا بخشنے والی دواہے، اور جو لوگ مضبوطی سے اس کو تھامے رہیں گے ان کے لئے یہ محافظ ہے اورپیروی کرنے والوں کے لئے نجات کا ذریعہ ہے۔یہ کتاب بے رخی نہیں کرتی کہ اس کو منانے کی ضرورت پڑے، اس کتاب میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے جسے سیدھا کرنے کی ضرورت پیش آئے، اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے اور بہ کثرت پڑھنے سے یہ پرانی نہیں ہوتی۔"

(ترغیب بحوالہ مستدرک (زادِراہ ۲۳۲))

عصری علوم

یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اس کی تخلیقات کا مطالعہ کرنا ان کو سمجھنا بھی عین دین ہے بشرطیکہ آپ کی بنیاد میں ایمان موجود ہو۔ عصری علوم کو حاصل کرنا بھی انسانی ضرورت ہے، یعنی موجودہ زمانے میں حاصل ہوجانے والی معلومات یا موجودہ دور کے نظام کے گہرے مطالعے کے لئے اپنا وقت اور صلاحیتوں کو استعمال کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ تاکہ آپ اسلامی نظام کے اصولوں کو پیشِ نظر رکھ کر اسلامی فلاحی مملکت کے قیام و استحکام میں جدید ذرائع کو استعمال میں لانے کے قابل ہو سکیں ۔بلکہ یہ علم آپ کو اللہ تعالیٰ پر یقین بھی فراہم کرے گااور دنیا کی راہنمائی کی صلاحیت بھی۔اس کے لئے آپ کو تحقیقی میدان میں سر گرمِ عمل ہونا ہوگا۔اس بات کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ

۱۔ اس کائنات کے اندر جو نظام جاری وساری ہیں وہ صرف ایک ذات کے بل بوتے پر ہی چل رہے ہیں جو بہت قوت رکھنے والی ذات ہے۔اس کو دو مثالوں میں دیکھیں:

* سور ج نکلتاہے تو اس کی گرمائش سے سمندر کا نمکین پانی ، نمک کو چھوڑ کر، آبی بخارات کی شکل میں آسمان کی جانب چڑھتاہے اور بادلوں کی شکل اختیار کر لیتاہے۔پھر وہی بادل زمین پر پانی اورپہاڑوں پر برف کی صورت میں برستے ہیں ۔ تاکہ زمین کو اس کی ضرورت کے مطابق پانی مہیا ہو جائے اورپہاڑوں پر Over Head tank کی صورت میں جمع شدہ پانی گرم موسم میں ضرورت کے مطابق مہیا ہوسکے۔

یہ ایک بہت ہی سادہ اور روزمرّہ مشاہدے کی بات ہے کہ بالکل اِسی طرح آپ کے گھر میں بھی Underground tank ہوتا ہے، جس سے آپ پانی کو موٹر کے ذریعے گھر کی اوپر والی ٹینکی میں ڈالتے ہیں تاکہ نل کے ذریعے اُس ذخیرہ شدہ پانی کو ضرورت کے مطابق حاصل کیا جاسکے۔ یعنی یہ سارا کام ایک ہی نظام کے تحت چل رہاہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ سورج کی گردش بھی اُسی کے ہاتھ میں ہے جو سمندر کا مالک ہے ۔ جو بادلوں، اور پہاڑوں کا بھی پروردگارہے۔ جو اِس زمین پر اُگنے والی کھیتیوں کی پرورش کرنے والا ہے کیونکہ وہی پانی جب بیج تک پہنچتا ہے تووہ برگ و بار لاتاہے۔اور زمین پر بسنے والی مخلوقات کی غذا بنتاہے۔

* ہوا، پانی اور روشنی کے امتزاج نے بیج کو تقوعت دی ، درخت اُگا اور اُس نے تما م غذائیت اپنے پھلوں میں جمع کردی۔اس تمام عمل میں اللہ تعالیٰ کی جو جو حکمتیں اور نشانیاں تھیں وہ نیوٹن کی نظروں سے اُوجھل رہیں اور وہ پھل کو زمین پر گرتے دیکھ کر کششِ ثقل کو تودریافت کر بیٹھا لیکن وہ ہوا، پانی،روشنی، درخت اور کششِ ثقل کو پیدا کرنے اور اِن سب کو ایک نظام میں پرونے والے واحد پروردگارکو نہ پہچان سکا۔

حالانکہ آپ کے سامنے تو یہ سارا نظام گواہی دیتا ہے کہ اِس تمام کائنات کا پروردگار ایک ہی ہے جو بہت حکمت و قدرت والا ہے۔ زمین وآسمان میں جتنی بھی قوتیں کام کر رہی ہیں وہ ایک واحد پروردگار کے ہاتھ میں ہیں ۔ کیونکہ اگر یہ مختلف ہاتھوں میں ہوتیں تو زمین وآسمان کا نظام اِس تسلسل اور باقاعدگی سے نہیں چل سکتا تھا کہ جس طرح جاری و ساری ہے۔

۲۔ اسی طرح جدید علوم کا حصول اس لئے بھی آپ کے لئے بہت ضروری ہے کہ آپ موجودہ معاشرتی و حکومتی system کو سمجھ سکیں اور ان کے اندر مثبت تبدیلیاں لا سکیں۔ آپ دنیا داروں سے زیادہ دنیا کے نظام کوجاننے والے بنیں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے واقفیت بھی ہو تب ہی آپ اس نظام ِزندگی کو سنوار سکتے ہیں۔تب ہی آپ حقیقی طور پر انقلاب لانے کے قابل ہوسکتے ہیں،صاحب الرائے بن سکتے ہیں۔

آج جدید ٹیکنالوجی کی کمانڈ غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہے اس لئے آپ نے جدید ٹیکنالوجی کو صرف اسی قدر ہی حاصل نہیں کرنا کہ آپ عالمِ کفر کے پیچھے پیچھے چلیں اور اُن کے غلام بنے رہیں بلکہ خود کو اِس تیزی اور مستعدی سے آگے بڑھانا ہے کہ آپ راہنمائی کرنے والے بن جائیں۔غرض کہ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت بھی ہو اور دنیاکی راہنمائی بھی ۔تب ہی آپ اللہ تعالیٰ کی نیابت کا فریضہ بہتر طور سے سر انجام دے سکیں گے۔بصورت دیگر تو آپ غیروں کے غلام ہی رہیں گے۔اور وہ آپ کو جہنم کی آگ کی طرف لے جائیں گے ۔اس بات کوایک جملے میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ آپ کے دائیں ہاتھ میں قرآن وسنت ہو تو بائیں ہاتھ میں جدید ٹیکنالوجی کی علامت کمپیوٹر ہو نا چاہیے۔

اس سلسلے میں محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے آپ کی راہنمائی کے لئے جواحکامات ہیں ان کا عکس ان احادیث میں ملتا ہے :۔

(جنگ بدر میں جب کفار قیدی بن کرمسلمانوں کے ہاتھ آئے تو ان کی رہائی کے لئے)"فدیہ کی مقدار چار ہزار اور تین ہزار درہم سے لے کر ایک ہزار درہم تک تھی۔اہل مکہ لکھنا پڑھنا بھی جانتے تھے جبکہ اہلِ مدینہ لکھنے پڑھنے سے بھی واقف نہ تھے، اس لئے یہ بھی طے کیا گیا کہ جس کے پا س فدیہ نہ ہو وہ مدینے کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔جب یہ بچے اچھی طرح سیکھ جائیں تویہی اس کا فدیہ ہوگا۔"

(صفحہ ۳۱۵ الرحیق المختوم)

حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ثابت کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے سریانی زبان سیکھنے کاحکم دیا، اور ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے یہود کا رسم الخط سیکھنے کا حکم دیا او رفرمایاکہ ، مجھے یہود کی کسی تحریر پر اعتماد نہیں ہے ، لہٰذا ان کی زبان سیکھو اور رسم الخط بھی۔

زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ثابت کہتے ہیں کہ صرف ۱۵ دن میں میں نے ان کا رسم الخط سیکھ لیا۔ اس کے بعد یہود کو آپ ﷺ جو کچھ فرماتے لکھتا، اور جب یہودوں کا کوئی خط آپ ﷺ کے پاس آتا تومیں ان کا خط آپ ﷺ کو پڑھ کے سناتا۔

(زادِراہ ۱۹۷)

ماخوذ از کتاب تزکیۂ نفس، از ملک سہیل احمد