آپکی زندگی میں عقائد بہت اہمیت رکھتے ہیں ان ہی کی بناء پر آپکی کامیابی و ناکامی کا دارومدار ہے اس لئے قرآن و حدیث سے مضبوط تعلق کے ذریعے ان کی درستگی نہایت ضروری ہے ۔لہٰذا خوب سوچ سمجھ کر ان کو اپنے دل و دماغ میں جگہ دینی ہے۔کیونکہ میڈیا کے اس دور میں طرح طرح کے نظریات اور باتیں سامنے آتی ہیں ۔دنیا میں نت نئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے ایسے میں آپکو اپنے عقائد کے بارے میں اطمینان ِقلب ہو ، تاکہ آپ بارگاہ الہٰی میں سرخرو ہوسکیں اور کوئی آندھی اور طوفان آپکو اپنے بنیادی عقائد سے متزلزل نہ کر پائے۔اس کے تین ستونوں کواپنے ذہنوں میں ہمیشہ واضح رکھیں۔
۱۔ توحید ۲۔رسالت ۳۔آخرت
توحید
تصور توحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کہ جس کی عبادت کی جائے ۔اوراللہ کے سواکوئی ہستی نہیں ہے کہ جس کے احکامات کو مدِ نظررکھا جائے۔وہ آپکی عبادات و بندگی سے بے نیاز ہے اگر تما م تر مخلوق بھی اُس کی مخالفت پر آمادہ ہوجائے تو بھی اُس کی سلطنت میں زرہ برابر کمی نہیں آسکے گی۔نہ اُس کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی کی اولاد۔اور نہ ہی اُس کی گرفت سے کوئی بھاگ سکتا ہے کہ نافرمانی کرنے کے بعد اُس کی پکڑسے بچ جائے۔وہ بہت محبت کرنے والا خالق ہی آپکی تمام عبادات ومحبت کا حقیقی مستحق ہے۔
رسالت
دوسرا اہم ستون رسالت ہے۔شیطان اگر اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک پیدا نہ کر سکے تو محمد ﷺ کی رسالت کے بارے میں شک پیدا کرنے کی کوشش کرتاہے۔حالانکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تعلق رکھناآپ کے ایمان کا تقاضہ ہے اور اس کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صحیح فرمانبرداری کرسکیں۔ کیونکہ ان پر ایمان لائے بغیرآپ جان ہی نہیں سکتے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے کیا چاہتاہے،کس چیز کو پسند کرتاہے ،کن کاموں سے منع کرتاہے ۔ان تما م باتوں کوجانے بغیرآپ اللہ تعالیٰ کو خوش کیسے کریں گے؟
آخرت
اللہ تعالیٰ آپ کو ہر وقت دیکھ رہا ہے اورآپ کومرنے کے بعددوبارہ اُٹھ کراپنے تمام اعمال کا حساب وکتاب دینا ہے۔یہحقیقت اگر آپ کے دل میں بیٹھ جائے تو ہو ہی نہیں سکتاکہ آپ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکے احکامات کو نظر انداز کر کے زندگی گزاریں۔
"دوزخ میں جانے والے اورجنّت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔جنّت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔"
دنیا میں،فرمانبردار بندوں کا طرزِ عمل نافر مان بندوں سے بالکل مختلف ہوگا۔ اور آخرت میں ،اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو جنت میں بھیجے گا تو برُے لوگوں کو دوزخ میں ڈالے گا،یعنی دونوں طرح کے افراد میں فرق رکھا جائے گا۔اچھے کو اچھا پھل ملے گا تو برُے کو برُا نتیجہ دیکھنا ہوگا۔
ماخوذ از کتاب تزکیۂ نفس، از ملک سہیل احمد